مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ معجزوں کا بیان ۔ حدیث 480

خود کشی کا مرتکب دوزخی

راوی:

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قتل نفس ( یعنی خود کشی ) کا مرتکب دوزخ میں جائے گا ، لیکن اس مسئلہ میں علماء کرام نے لکھا ہے کہ اگر ایسا شخص ( کہ جس نے خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر لیا ہو ) مؤمن ہے اور تصدیق ایمانی رکھتا تھا تو دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا، جیسا کہ کسی مؤمن کو عمدا قتل کرنے والے مؤمن کا حکم ہے ، چنانچہ کسی مؤمن کا اپنے آپ کو ختم کرلینا ( یعنی خودکشی کرلینا ) ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی دوسرے مؤمن کو قتل کردیا ہو ۔ واضح رہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت میں قاتل مؤمن کے متعلق خلود نار ( دوزخ کے ابدی عذاب ) کا حکم بیان کیا گیا ہے ۔ لیکن علماء کرام نے اس آیت میں تاویلیں کی ہیں کیونکہ قرآن کریم ہی کی دوسری آیتوں اور احادیث سے مؤمن کے قتل عمد کا ارتکاب کرنے والے کے بارے میں عدم خلود نار ( دوزخ کے غیر ابدی عذاب ) کا حکم ثابت ہوتا ہے ۔ تاہم وہ محدثین جن کا تعلق اہل ظواہر سے ہے انہوں نے کہا ہے کہ ایسا شخص ( جس نے خود کشی کرلی ہو) اگرچہ مؤمن بھی ہو تو دوزخ کے ابدی عذاب کا مستوجب ہوگا ، گویا ان کے نزدیک دوزخ کا ابدی عذاب کافر ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے مگر یہ قول شاذ ہے اور اہل سنت والجماعت کے متفقہ مسلک کے بالکل خلاف ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں