مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب ۔ حدیث 980

اس امت پر خصوصی فضل خداوندی

راوی:

عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " إنما أجلكم في أجل من خلا من الأمم ما بين صلاة العصر إلى مغرب الشمس وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا فقال : من يعمل إلى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود إلى نصف النهار على قيراط قيراط ثم قال : من يعمل لي من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط فعملت النصارى من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط . ثم قال : من يعمل لي من صلاة العصر إلى مغرب الشمس على قيراطين قيراطين ؟ ألا فأنتم الذين يعملون من صلاة العصر إلى مغرب الشمس ألا لكم الأجر مرتين فغضبت اليهود والنصارى فقالوا : نحن أكثر عملا وأقل عطاء قال الله تعالى : هل ظلمتكم من حقكم شيئا ؟ قالوا : لا . قال الله تعالى : فإنه فضلي أعطيه من شئت " . رواه البخاري

" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر تے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم مسلمانوں کو مخاطب کر کے ) فرمایا : دوسری امتوں کے لوگوں کے مقابلہ میں تمہارا عرصہ حیات اتنا ہے جتنا کہ ( سارے دن کے مقابلہ میں ) نماز عصر کے بعد سے غروب افتاب تک کا درمیانی وقت، علاوہ ازیں ( اللہ رب العزت کے ساتھ ) تمہارا معاملہ اور یہود ونصاری کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی شخص اجرت پر کام کرنے کے لئے کچھ مزدوروں کو طلب کرے اور ان سے کہے کہ کوئی ہے جو دوپہر تک میرا کام کرے اور میں (اتنے عرصہ کام کرنے کی اجرت کے طور پر ) ہر شخص کو ایک ایک قیراط دوں گا ۔ چنانچہ اس اجرت کو منظور کر کے ) یہود نے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا ، پھر اس شخص نے کہا کوئی ہے جو دوپہر سے عصر تک میرا کام کرے اور میں ہر شخص کو ایک ایک قیراط دونگا چنانچہ یہود کے بعد عیسی علیہ السلام کے ماننے والے لوگوں نے یعنی ) انصاری نے دوپہر سے عصر کے وقت ایک ایک قیراط پر کام کیا ، اور پھر اس شخص نے کہا کوئی ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک میرا کام کرے اور میں ہر شخص کو دو دو قیراط دوں گا (اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ) جان لو ( اس مثال میں ) تم ہی وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے غروب آفتاب تک کام کرنے والے ہیں ، یاد رکھو تمہارا اجر دوگنا ہے اور اسی وجہ سے ( کہ تمہارے کام کی مدت تو کم ہے لیکن مستحق دوگنے اجر کے قرار پائے ہو) یہود ونصاری بھٹرک اٹھے اور بو لے کہ عمل کے اعتبار سے تو ہم بہت بڑھے ہوئے ہیں اجر وثواب میں ہمارا حصہ بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ کیا میں نے تمہارے ساتھ کچھ ظلم کیا ہے یعنی میں نے تمہاری جو اجرت مقرر کی تھی اور تمہیں جو کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا کیا اس میں کچھ کمی کی ہے، یہود ونصاری نے کہا ! نہیں ( ہمارے حق میں تو نے کچھ کم نہیں کیا ہے لیکن تیری طرف سے یہ تفاوت اور تفر یق کیسی ہے ؟) پروردگار نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ یہ زیادہ اجر دینا میرا فضل واحسان ہے میں جس کو چاہوں زیادہ دوں ( میں فاعل مختار ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ) ۔ " (بخاری )

تشریح :
اجل کسی چیز کی مدت متعینہ کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لتبلغوا ا جلا مسمی اور کبھی اس لفظ ( اجل کا اطلاق انسان کی موت پر کیا جاتا ہے ، چنانچہ کہا جاتا ہے دنا اجلہ اس شخص کی موت قریب آ گئی ۔ یہ ملا علی قاری نے طیبی کے حوالہ سے لکھا ہے اور اس کے بعد کہتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ " اجل " کے لفظ سے کبھی تو اس پوری مدت کو تعبیر کیا جاتا ہے جو عمر کے لئے متعین ہوتی ہے خواہ وہ معلق ہو یا مبر ) جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد ثم قضی اجلا وا جل مسمی عندہ میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے، اور کبھی اس لفظ کا اطلاق مدت عمر کے خاتمہ اور زندگی کے آخری لمحہ پر ہوتا ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کے ارشاد اذا جاء اجلھم لا یستاخر ون سا عۃ ولا یستقدمون میں اس لفظ کے یہی معنی مراد ہیں پس یہاں حدیث کے الفاظ انما اجلکم فی اجل من خلا من الامم الخ میں لفظ " اجل " کے پہلے معنی مراد ہیں یعنی پورا عر صہ حیات پوری مدت عمر اس روشنی میں حدیث گرامی کے ان الفاظ کی وضاحت یہ ہوگی کہ! اے مسلمانو ! پچھلی امتوں کے لوگوں کی لمبی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری کم عمروں کا تناسب وہی ہے جو دن کے آ غاز سے نماز عصر تک وقت کے مقابلہ میں عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک کے وقت کا ہے ، لیکن اس کے باوجود تمہارے اجر وثواب کی مقدار زیادہ متعین ہے جب کہ ان لمبی لمبی عمروں والوں کے لئے اجروثواب کی مقدار کم رکھی گئی، یہ تمہارا شرف واعزاز ہے کہ تمہارے عمل کا عرصہ کم ہے مگر اجروثواب کہیں زیادہ۔
" قیراط " ایک وزن کو کہتے ہیں جو درہم کے بارہویں حصہ یا دینار کے بیسویں یا چوبیسویں حصہ کے برابر ہوتا ہے ۔
" یہود نے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا " یعنی حضرت موسی علیہ السلام کو ما ننے والے اور ان کی اتباع کرنے والوں نے اپنی اپنی لمبی لمبی عمروں میں کم ثواب پر زیادہ عمل کیا ، اور اس طرح وہ ان مزدوروں کے مشابہ ہوئے جنہوں نے صبح سے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا ہو ۔ اسی طرح جب حضرت عیسی علیہ السلام کے ما ننے والوں اور ان کی اتباع کرنے والوں کا زمانہ آ یا تو انہوں نے بھی اپنے عرصہ حیات میں کم ثواب پر زیادہ عمل کیا اور وہ ان مزدوروں کے مشابہ ہوئے جنہوں نے دوپہر کے بعد سے عصر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا ہو۔
" یاد رکھو تمہارا اجر دوگنا ہے" یعنی یہود ونصاری کے ساتھ تو یہ معاملہ تھا کہ وہ جتنا کر تے تھے اسی کے برابر اجروثواب کے مستحق ہو تے تھے ۔ لیکن تمہارا اعزاز یہ ہے کہ ان کی بہ نسبت تم کو دوگنا اجر و ثواب ملتا ہے گو یا حدیث کا یہ مضمون اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ما خوذ ہے کہ :
یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وامنو برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ۔
" اے (عیسی علیہ السلام پر) ایمان رکھنے والو ! تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لاؤ ۔ اللہ تعالیٰ رحمت سے تمہیں دگنا ثواب دے گا ۔ "
پس اس امت کے لوگوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے نبی کو مانا اور اس کی تصدیق کی بلکہ پچھلے نبیوں اور رسولوں پر بھی ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی لہذا دوگنے اجر اور دوہرے ثواب کے مستحق ہوئے ۔
" لیکن اجر و ثواب میں ہمارا حصہ بہت کم ہے" یہود ونصاری کی اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ : پروردگار !یہ کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا کام کم اس کے اعمال قلیل ، لیکن اس کا اجر بہت اس کا ثواب زیادہ ، اس امت کے مقابلہ میں ہمارا کام کہیں زیادہ ہمارے اعمال بہت کثیر ، مگر ہمارا اجر کہیں کم اور ہمارا ثواب بہت قلیل ؟ یہاں دونوں احتمال ہیں ، یہ بات یہود ونصاری یا تو قیامت کے دن کہیں گے جب وہ امت محمدیہ کو اجر و ثواب کے اعتبار سے اپنے مقابلہ کہیں زیادہ آ گے پائیں گے ، یا اس طرح کی بات انہوں نے اس وقت کہی ہوگی جب ان کو اپنے اپنے زمانہ میں اپنی آسمانی کتابوں کے ذریعہ اور اپنے رسولوں کی زبانی اس امت محمدیہ کے ایسے فضائل و خصائص معلوم ہوئے ہوں گے۔ بہر صورت اس حدیث میں اس بات کی جہت سے ، کیونکہ بندہ اپنے مولیٰ کے نزدیک اس وجہ سے ثواب کا مستحق نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی عبادت کی ہے، کوئی کار گزاری دکھائی ہے، بلکہ مولیٰ اپنے محض فضل واحسان کی جہت سے بندہ کو ثواب سے نوازتا ہے اور مولیٰ کو اس کا پورا اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زیادہ سے زیادہ ثواب عطا فرمائے فانہ یفعل ما یشاء ویحکم ما یرید۔
واضح ہو کہ حدیث میں مذکور " یہود و نصاری " سے مرا دوہ یہود نصاری ہیں جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں ( رسول کو مانا ) اس پر ایمان لائے ، اس کی لائی ہوئی کتاب اور شر یعت کی پیروی کی اور آخر دم تک اپنے اپنے دین حق پر قائم رہے ، رہی ان یہود ونصاری کی بات ثواب ہی سے محروم رہے علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ نصاری جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل مقدس پر ایمان رکھتے ہیں ، باوجودیکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور توریت پر بھی ایمان لائے تھے لیکن ان کو یہود کی بہ نسبت زیادہ ثواب نہیں ملا ، جو صرف اپنے ہی رسول اور اپنی ہی کتاب یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور توریت پر ایمان لائے تھے ۔
ایک اور بات اس حدیث سے حنفی علماء نے عصر کے وقت کے بارہ میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کو اور مضبوط بنا نے کے لئے استدلال کیا ہے، حضرت امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ عصر کا وقت جب شروع ہوتا ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل یعنی دوگنا ہو جائے ۔ چنانچہ ان حنفی علماء کا کہنا ہے کہ نصاری کے عرصہ عمل کا اس امت کے عرصہ عمل سے زیادہ ہونا اسی صورت میں سمجھا جاسکتا ہے جب کہ حدیث میں مذکور مثال کے مطا بق ان کے کام ( عمل ) کی مدت دوپہر کے بعد سے ہر چیز کا سا یہ دو مثل یعنی دوگنا ہو جانے تک رہے۔

یہ حدیث شیئر کریں