حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مختلف مذہب کے لوگوں کے درمیان وارثت قائم نہیں ہوتی (ابوداؤد ابن ماجہ) امام ترمذی نے اس روایت کو حضرت جابر سے نقل کیا ہے ۔
تشریح……
حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مختلف مذہب کے لوگوں کے درمیان وارثت قائم نہیں ہوتی (ابوداؤد ابن ماجہ) امام ترمذی نے اس روایت کو حضرت جابر سے نقل کیا ہے ۔
تشریح……
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل کرنیوالا وارث نہیں ہو سکتا ( ترمذی ابن ماجہ)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے مورث کو ناحق قتل کر دے وہ اس کی میراث پانے سے……
اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ کا چھٹا حصہ مقرر کیا ہے جب کہ ماں اسے محجوب نہ کر دے ( ابوداؤد)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو اس کی وجہ سے میت کی جدہ……
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بچہ نے کوئی آواز نکالی ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اسے وارث قرار دیا جائے ( ابن ماجہ دارمی)
تشریح :
آواز نکالنے سے مراد……
اور حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ تابعی) اور وہ کثیر کے دادا (یعنی اپنے والد حضرت عمرو بن عوف مزنی صحابی) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی……
اور حضرت مقدام کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ہر مؤمن کے حق میں خود اس سے زیادہ عزیز وخیر خواہ ہیں لہذا جو شخص اپنے ذمہ عیال یا قرض چھوڑ کر مرے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس……
اور حضرت واثلہ بن اسقع کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت تین آدمیوں کی میراث لیتی ہے ایک تو وہ اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی دوسرے اپنے لقیط کی اور تیسرے اپنے بچے کی جس کی وجہ……
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب اور حضرت شعیب اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی آزاد عورت یا لونڈی سے زنا کرے تو اس کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوگا……
اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا لیکن نہ تو اس نے کوئی ناطے دار چھوڑا اور نہ فرزند جو اس کے ترکہ کا وارث ہوتا) چنانچہ……
یہ بات پہلے ہو چکی ہے کہ آزاد شدہ غلام کے اگر عصبات نسبی نہیں ہوتے تو اس کا حق ولاء اس کو آزاد کرنیوالے کو پہنچتا ہے یعنی اس کے مرنے کے بعد اس کے آزاد کرنیوالا اس کی میراث کا مالک بنتا ہے۔ اس قاعدہ کے……