مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 11

بیمار کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء شفائ

راوی:

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده فلما اشتكى وجعه الذي توفي فيه كنت أنفث عليه بالمعوذات التي كان ينفث وأمسح بيد النبي صلى الله عليه و سلم
وفي رواية لمسلم قالت : كان إذا مرض أحد من أهل بيته نفث عليه بالمعوذات

اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے اور اپنا ہاتھ بدن پر (جہاں تک پہنچتا) پھیرتے، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بیماری میں مبتلا تھے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو میں معوذات پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دم کرتی تھی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم فرمایا کرتے تھے، نیز میں آپ کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن پر پھیرا کرتی تھی۔ اس طرح کہ میں معوذات پڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں پر دم کرتی تھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک پر پھیرتی۔ (بخاری ومسلم) مسلم کی ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ منقول ہے کہ " جب گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معوذات پڑھ کر اس پر دم فرمایا کرتے تھے"

تشریح
معوذات سے مراد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس کی سورتیں ہیں۔ چنانچہ حدیث میں معوذاب بصیغہ جمع آیتوں کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے۔ یا یہ کہ چونکہ اقل جمع (یعنی جمع کا سب سے کم درجہ) دو ہیں اس لئے ان دونوں سورتوں کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ نیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ " معوذات" سے مراد تین سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس، اور قل ھو اللہ ہیں اور ان تینوں کو معوذات کا نام تغلیباً دیا گیا ہے۔ یہی بات زیادہ معتمد ہے بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ " معوذات " میں ان تینوں سورتوں کے علاوہ " قل یا ایہا الکافرون" بھی داخل ہے۔ و اللہ اعلم۔ مسلم کی دوسری روایت میں " ہاتھ پھیرنے" کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس موقع پر جہاں یہ احتمال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کرنے کے ساتھ ہاتھ بھی پھیرتے ہوں گے۔ لیکن یہاں اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا ہے کہ " دم کرنے" سے ہاتھ پھیرنا بھی خود بخود مفہوم ہو جاتا ہے وہیں یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح دم کرنے کے ساتھ ہاتھ پھیر تے تھے اس طرح کسی کسی موقعہ پر صرف دم کرنے ہی پر اکتفاء کرتے ہوں گے اور ہاتھ نہ پھیرتے ہوں گے۔ لیکن صحیح اور قریب از حقیقت وضاحت وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے اور اولیٰ بھی یہی ہے کہ دم بھی کیا جائے اور ہاتھ بھی پھیرا جائے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کلام اللہ کی آیتیں پڑھ کر بیمار پر دم کرنا سنت ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں