مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 20

مؤمن اور منافق کی زندگی کی مثال

راوی:

وعن كعب بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع تفيئها الرياح تصرعها مرة وتعدلها أخرى حتى يأتيه أجله ومثل المنافق كمثل الأرزة المجذية التي لا يصيبها شيء حتى يكون انجعافها مرة واحدة "

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " مؤمن کی مثال کھیت کی تر و تاز اور نرم شاخ کی سی ہے کہ جسے ہوائیں جھکا دیتی ہیں، کبھی اسے گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں یہاں تک کہ اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو جما کھڑا رہتا ہے اسے کوئی جھٹکا نہیں لگتا (یعنی نہ تو وہ ہوا کہ دباؤ سے گرتا ہے اور نہ جھکتا ہے) یہاں تک کہ وہ دفعۃً زمین پر آ گرتا ہے۔" (بخاری و مسلم)

تشریح
مؤمن کی مثال تو کھیتی کی تر و تازہ اور نرم شاخ سے دی جا رہی ہے کہ جس طرح ہواؤں کے تھپیڑے اس شاخ پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں بایں طور کہ کبھی وہ شاخ کو گرا دیتے ہیں کبھی سیدھا کر دیتے ہیں۔ مگر وہ شاخ ہواؤں کے سکت و تند تھپیڑے کھا کھا کر اپنی جگہ اپنے وقت کے آخری لمحہ تک کھڑی رہتی ہے۔ اسی مؤمن کا حال بھی یہی ہے کہ کبھی تو اسے مصائب و آلام اور ضعف و بیماری کے سخت تھپیڑے گرا دیتے ہیں، کبھی صحت و تندرستی اور خوشی و مسرت کے جانفزا جھونکے ان کی زندگی میں بشاشت و انبساط کی زندگی پیدا کر دیتے ہیں اس طرح وہ اپنی زندگی کے دن پورے کرتا رہتا ہے۔
منافق کی مثال صنوبر کے درخت سے دی گئی ہے کہ جس طرح صنوبر کا درخت بظاہر ایک جگہ کھڑا رہتا ہے اور اس پر ہوا کا دباؤ اثر انداز نہیں ہوتا مگر جب اس کا وقت آتا ہے تو وہ یکبارگی زمین پر آ رہتا ہے اسی طرح منافق کا حال ہے کہ وہ دنیاوی زندگی میں بظاہر خوش و خرم اور ہشاش بشاش نظر آتا ہے نہ اس پر مصائب و آلام کی بارش ہوتی ہے اور نہ بیماری و ضعف کے تھپیڑے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ یکبارگی بغیر کسی بیماری و ضعف کے موت کی وادی میں گر جاتا ہے۔
گویا حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ مؤمن و مسلمان کی زندگی مصائب و آلام اور تکلیف و پریشانی میں گزرتی ہے کبھی وہ بیماری و ضعف کے جال میں پھنسا رہتا ہے کبھی اسے مال و زر کی کمی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے کبھی دوسرے دنیاوی حوادث و آلام اس کی روشن زندگی پر سیاہ بادل بن کر چھا جاتے ہیں مگر مومن مسلمان اسی حالت میں جیے جاتا ہے اور یہ تمام چیزیں اس کے حق میں اخروی سعادت و خوش بختی کی علامت قرار دی جاتی ہیں بشرطیکہ صبر و رضا اور شکر کا دامن کسی بھی مرحلہ پر ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کے مقابلہ پر منافق و فاسق کی زندگی ہوتی ہے جس پر نہ تو زیادہ تر غم و آلام کا سایہ ہوتا ہے نہ بیماری و پریشانی کے سیاہ بادل اور نہ دوسری دنیاوی ذلت و ناکامرانی اور مصیبت و پریشانی کا چکر، بلکہ وہ بظاہر تندرست و توانا اور خوش و خرم رہتا ہے اس طرح نہ اسے وہ درجہ ملتا ہے جو مصائب و پریشانی میں مبتلا ہو کر مؤمن و مسلمان کی اخروی کامیابی و فلاح کا ضامن بنتی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں