مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ مردہ کو دفن کرنے کا بیان ۔ حدیث 203

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی قبر پر

راوی:

وعن ابن أبي مليكة قال : لما توفي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحبشي ( موضع قريب من مكة )
وهو موضع فحمل إلى مكة فدفن بها فلما قدمت عائشة أتت قبر عبد الرحمن بن أبي بكر فقالت :
وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا
فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا
ثم قالت : والله لو حضرتك ما دفنت إلا حيث مت ولو شهدتك ما زرتك رواه الترمذي

حضرت ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کا حبشہ میں جو ایک مقام ہے انتقال ہوا تو ان کی نعش کو مکہ لایا گیا اور وہاں انہیں دفن کیا گیا، جب حضرت عائشہ صدیقہ حج کے لئے مکہ تشریف لائیں تو اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن کی قبر پر بھی گئیں اور وہاں یہ شعر پڑھے
وکنا کندمانی جذیمۃ حقبۃ
من الدہر حتی قیل لن یتصدعا
فلما تفرقنا کانی ومالکا
لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا
یعنی ہم دونوں جذیمہ کے دونوں ہمنشینوں کی طرف ایک مدت دراز تک زمانہ سے جدا نہیں ہوئے یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں تو کبھی جدا نہیں ہوں گے لیکن جب ہم دونوں یعنی میں اور مال ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو طویل زمانہ تک ساتھ رہنے کے باوجود گویا ایک رات کے لئے بھی یکجا نہ ہوئے اس کے بعد حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! اگر تمہارے انتقال کے وقت میں موجود ہوتی تو تم وہیں دفن کئے جاتے جہاں تمہارا انتقال ہوا تھا کیونکہ میت کو اس جگہ سے کہ جہاں اس کا انتقال ہوا ہو دوسری جگہ منتقل نہ کرنا سنت اور افضل ہے نیز یہ کہ اگر میں انتقال کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو اس وقت تمہاری قبر پر نہ آتی۔ (ترمذی)

تشریح
حبشی مکہ کے قریب ایک موضع کا نام تھا، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ مکہ سے ایک منزل کا نام ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب اپنے بھائی کی قبر پر گئیں تو وہاں انہوں نے اپنے بھائی کے فراق میں حسب حال دو شعر پڑھے یہ اشعار تمیم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں کہے تھے جسے خالد بن ولید نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں قتل کر دیا تھا۔
ان اشعار میں تمیم بن نویرہ نے خود کو اور اپنے بھائی کو جزیمہ کے دو ہم نشینوں کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ کسی زمانہ میں عراق کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام جذیمہ تھا۔ جزیرہ عرب بھی اس کے تصرف میں تھا، اس بادشاہ کے دو ہم نشین تھے جو دونوں ہم نشین اور ندیم رہے ان دونوں بھائیوں کو نعمان نے مار ڈالا۔ ان کے قتل کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہے جو مقامات حریری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
بہرحال تمیم اپنے بھائی کے مرثیہ میں کہہ رہا ہے کہ میں اور تم دونوں ہم نشین اور آپس میں انتہائی گہرا تعلق اور محبت رکھنے والے تھے اور ہم دونوں میں ایک طویل زمانہ تک جدائی کی نوبت نہیں آئی تھی جیسا کہ جذیمہ کے دونوں ہم نشین آپس میں اتنے طویل عرصہ تک انتہائی گہرا اخلاص و محبت اور ہم نشینی رکھتے تھے کہ لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ دونوں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ پھر تمیم کہتا ہے کہ جب مالک کی موت ہوئی اور اس طرح ہم دونوں میں دائمی جدائی ہو گئی تو اب اس کے باوجود کہ ہم دونوں ایک طویل زمانہ تک ایک ساتھ رہے مگر اب مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گویا ہم دونوں ایک رات کے لئے بھی یکجا اور ایک ساتھ نہیں رہے یعنی محبت و یکجائی کا وہ طویل زمانہ چند لمحوں میں سمٹا ہوا یا کہ ایک خواب محسوس ہو رہا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے الفاظ اگر میں انتقال کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو اس وقت تمہاری قبر پر نہ آتی مطلب یہ ہے کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں پر جائیں اس لئے میں یہاں قبر پر ہرگز نہ آتی مگر انتقال کے وقت چونکہ تمہاری زیارت نصیب نہیں ہو سکی تھی اس لئے مجبوراً اب قبر پر آ گئی ہوں تاکہ میرا قبر پر آ جانا آخری وقت میں تمہاری ملاقات کا قائم مقام بن جائے۔

یہ حدیث شیئر کریں