مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ میت پر رونے کا بیان ۔ حدیث 219

جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا

راوی:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لنسوة من الأنصار : " لا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد فتحتسبه إلا دخلت الجنة . فقال امرأة منهن : أو اثنان يا رسول الله ؟ قال : أو اثنان " . رواه مسلم وفي رواية لهما : " ثلاثة لم يبلغوا الحنث "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی ہی انصاری عورتوں سے فرمایا تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے مر جائیں اور وہ عورت ثواب کی طلبگار ہو تو وہ جنت میں داخل کی جائے گی۔ یہ سن کر ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا کہ یا دو بچے مر جائیں یعنی اس بشارت کو تین کے ساتھ خاص نہ کیجئے بلکہ یہ فرمائیے کہ تین مر جائیں یا دو مریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (ہاں) دو بچے بھی مر جائیں تو یہ بشارت ہے (مسلم بخاری و مسلم دونوں کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایسے تین بچے مریں جو حد بلوغ کو نہ پہنچے ہوئے ہوں (تو یہ بشارت ہے)

تشریح
ثواب کی طلبگار ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی عورت کے تین بچوں کو اپنے پاس بلا لے تو وہ ان کے مر جانے پر نوحہ اور جزع فزع نہ کرے بلکہ صبر و شکر کا دامن پکڑے رہے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر اللہ کی مرضی اور اس کی مصلحت کے آگے سر جھکا دے تو وہ بہشت میں داخل کی جائے گی۔
اب اس بارہ میں دونوں ہی احتمال ہیں کہ یا تو اسے ابتداء ہی میں بغیر عذاب میں مبتلا کئے ہوئے جنت میں داخل کر دیا جائے گا یا پھر یہ کہ ان بچوں کی سفارش و شفاعت کے بعد اسے جنت کی سعادت سے نوازا جائے گا۔
عورت کے عرض کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد " یا دو بچے مریں" کے بارہ میں علماء لکھتے ہیں کہ جب آپ نے تین بچوں کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو عورتوں نے تین کی تخصیص کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو بارگاہ صمدیت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ کے اثر سے رحمت الٰہی نے اس خواہش کو قبول فرما کر فورا ہی بذریعہ وحی مطلع کر دیا کہ اگر دو بچے بھی مر جائیں تب بھی یہ سعادت حاصل ہو گی یا پھر یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارہ میں بطور خاص دعا مانگی اور حق تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا قبول ہو گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو وہ بشارت بھی سنا دی۔
دوسری روایت میں غیر بالغ کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ چھوٹے بچوں سے عورتوں کو بہت زیادہ محبت ہوتی ہے بڑے بچوں کی بہ نسبت چھوٹے بچے اپنی ماں سے زیادہ قریب اور محبوب ہوتے ہیں اس لئے ان کے مرنے سے طبعی طور پرعورت کو بہت زیادہ رنج و غم ہوتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں