مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ سود کا بیان ۔ حدیث 56

سونے کی خرید وفروخت کا مسئلہ

راوی:

وعن فضالة بن أبي عبيد قال : اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : " لا تباع حتى تفصل " . رواه مسلم

حضرت فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے سال ایک ہار بارہ دینار میں خریدا جو سونے کا تھا اور اس میں نگینے جڑے ہوئے تھے پھر جب میں نے انہیں الگ الگ کیا (یعنی نگینوں کو سونے سے نکال ڈالا) تو وہ سونا بارہ دینار سے زائد قیمت کا نکلا میں نے اس کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہار اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے تاوقتیکہ سونا اور نگینہ الگ الگ نہ کر لئے جائیں ( مسلم)

تشریح :
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مال ربا میں سے دو ایسی ہم جنس چیزوں کا ایک دوسرے کے عوض لین دین کیا جائے کہ ان میں سے ایک طرف کی چیز میں کوئی اور غیر جنس کی چیز بھی شامل ہو تو یہ جائز نہیں ہے چنانچہ اگر کوئی شخص مثلا سونے کا جڑاؤ زیور سونے کے عوض میں خرید وفروخت کرے خواہ وہ اشرفیوں کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں تو لازم ہے کہ پہلے اس زیور میں سے نگینے وغیرہ الگ کر دئے جائیں اور پھر اس زیور کا خالص سونا دوسری طرف کے سونے کے برابر سرابر وزن کے ساتھ لیا دیا جائے یہی حکم چاندی کے بارے میں بھی ہے کہ اگر چاندی کا کوئی ایسا زیور وغیرہ کہ جس میں کوئی اور غیر جنس چیز مخلوط ہو چاندی ہی کے بدلے میں خواہ وہ روپے کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں خرید وفروخت کیا جائے تو ضروری ہے کہ اس زیور وغیرہ کی چاندی کو الگ کر کے دوسری طرف کی چاندی کے برابر سرابر وزن کے ساتھ خریدا جائے یا فروخت کیا جائے اور یہ حکم اس لئے ہے تاکہ ہم جنس چیزوں کا کمی بیشی کے ساتھ باہمی لین دین ہونے کی وجہ سے سود کی صورت پیدا نہ ہو جائے ہاں اگر سونے کا جڑاؤ زیور وغیرہ چاندی کے بدلے میں خرید وفروخت کیا جائے خواہ وہ چاندی روپے کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں یا اس کا برعکس ہو کہ چاندی کا جڑاؤ زیور سونے کے بدلے میں خرید وفروخت کیا جائے خواہ وہ سونا اشرفی وغیرہ کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں تو اس صورت میں اس جڑاؤ زیور سے نگینے وغیرہ اکھاڑ کر الگ کر دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ مختلف الجنس چیزوں کا باہمی لین دین کمی بیشی کے ساتھ بھی جائز ہے اس میں کمی زیادتی سے سود کی صورت پیدا نہیں ہوتی

یہ حدیث شیئر کریں